نیویارک،29اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں باور کرایا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اپنی اُن ترجیحات کو تبدیل کر ڈالا ہے جن کی بنیاد پر یہ 30برس قبل تشکیل پائی تھی۔ حزب اللہ کے قائم ہونے کا مقصد ایک ایسے لبنانی گروپ کا وجود تھا جو اسرائیل کے خلاف بر سرپیکار ہو۔ تاہم وہ ایرانی ایجنڈے پر عمل درامد کرتے ہوئے ایسی جنگوں میں شامل رہی جن کا اس کی تاسیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ جو 80ء کی دہائی میں ایران کی ہدایت پر جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی قوت کے طور پر تشکیل دی گئی تھی۔ اس نے جلد ہی اپنی ترجیحات کو بدل دیا اور اس کے جنگجوؤں کی بندوقوں کا رُخ عرب ممالک کی جانب ہو گیا تا کہ ایرانی مقاصد کو پورا کیا جا سکے اور خطے میں ایرانی غلبے کو یقینی بنایا جا سکے۔
گزشتہ 30برس کے دوران حزب اللہ نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کیا اور اپنی تربیتی سطح کو بلند کر کے ایک توسیعی قوت اور تہران کا آلہ کار بن گئی۔ اخبار کے مطابق حزب اللہ اور ایران کا اتحاد ولایت فقیہ کے نظریات کے نقش قدم پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حزب اللہ ایران کے واسطے بمنزلہ عربی بولنے والی قیادت اور کارکنان کے ہے اور ایران کے ساتھ اتحاد حزب اللہ کے لیے مال، ہتھیار اور ٹیکنالوجی کے حصول کا راستہ ہے۔
حزب اللہ ہر اس لڑائی میں گُھس جاتی ہے جو ایران کے لیے اہمیت کی حامل ہو۔ تنظیم نے ایران کے اوّل حلیف بشار الاسد کی سپورٹ میں لڑنے کے لیے اپنے ارکان کے جتھے شام بھیجے۔ اس کے علاوہ اس نے سیکڑوں جنگجوؤں اور تربیت کاروں کو عراق بھیجا، یمن میں باغیوں کو سپورٹ پیش کی اور افغان پناہ گزینوں کو بھرتی کرنے میں ملوث رہی۔ حزب اللہ کی قیادت ایران کے ہمنواؤں کے واسطے ان تجربوں کو دہران پر فخر کا اظہار کرتی ہے.. جیسا کہ شام میں بھاری جانی نقصان کے باوجود تنظیم کا نائب سکریٹری جنرل نعیم قاسم باور کرا چکا ہے۔